Sona shayari

Add To collaction

लेखनी कहानी -17-Jun-2022story

بس اک پل

از ایمن
قسط نمبر7

منہا ! دو گھنٹے کے بعد آئمہ کے ساتھ ارم کے گھر پر موجود تھی ۔۔۔۔
جہاں پہ رنگ وبوکا اک سیلاب تھا ۔۔۔۔ہر کوئی خوش گپیوں میں مگن 
تھا۔۔۔۔ارے منہا کتنا لیٹ کر دیاتم نے ۔۔۔۔۔۔۔ہم کب سے 
تمہارا انتظار کررہےہیں کنزہ نےارم کے ساتھ آتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
ارے یہ تو بھول ہی گئی تھی۔۔۔ میں نے فون کیا تو میڈم کو یاد آیا 
آہمہ نے سوفٹڈرنگ کا گلاس ویٹر سے لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نہیں یار !!!!ایسی کوئی بات نہیں تھی بس یوں ہی مائنڈ سے نکل گیا تھا 
خیر یہ بتاؤ !!! سمی آیا ہے کیا ؟؟؟؟ منہا نے ارم سے پوچھا ۔۔۔۔
ہاں کیوں نہیں بلکل۔۔۔ میں بلاؤں اور وہ نا آئے ۔۔۔ارم نے 
فخریہ مسکراہٹ سے کہا۔۔۔ کیا بات ہے بھئی لگتا ہےبات کافی 
آگے تک بڑھ گی ہے ۔۔۔۔۔آہمہ نے گھورتے ہوئے کہاتوارم ہنس 
پڑی ۔۔۔۔۔۔۔اب ایسا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔اچھا ہاں ثانیہ سنا 
ہے تمہارا کوئی پرپوزل آیا ہوا ہے ؟؟؟؟؟ ثناء نے اچانک یاد آنے پر 
پوچھا ۔۔۔۔ہاں ۔۔پاپاکے کوئی دوست کا بیٹا ہے فرجام ۔۔ثانیہ نے 
جواب دیا ۔۔ہممم !!! تو کیا سوچا ہے ۔۔۔۔ہاں !!ممی پاپا نے ابھی 
کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔۔تمہاری کیا رائے ہے ؟؟ ؟ارم نے کہا 
میں نے تو ممی پاپا پر فیصلہ چھوڑ دیا ہےجو ان کو صحیح لگے اور پھر 
اچھا ہے وہ مجھ سے سیدھاشادی کرنا چاہتا ہے افئیر نہیں چلانا چاہتا۔
اس سے اچھی کیا بات ہوگی ۔۔۔۔ثانیہ نے پرسکون ہو کر جواب 
دیا۔۔۔اور ثانیہ کے اطمینان سے دیے جوب پر منہا نے چونک کر 
اسے دیکھا اس کی بات سن منہا کو احد کی باتیں یاد آئی تھی ۔۔۔۔
ہائے گائز !!! شرجیل نے ان سب کی طرف آتے ہوئے کہا ۔۔۔
مائے گارڈ you look gorgeous من (منہا) ۔o thankyou 
شیری ۔۔۔منہا جو ابھی ثانیہ کی بات میں الجھی تھی شرجیل کے یوں 
تعریف کرنے پر اسُ کو دیکھتے ہوئےمسکرا کر کہا ۔۔۔اور شرجیل 
باری باری سب کے گلے ملنے لگا ۔۔۔مگر جیسے ہی شرجیل منہا کے 
پاس آیا ابھی وہ منہاکے گلےلگنےہی والاتھا کے ۔۔۔۔۔۔منہا
“”حیا عورت کا زیور ہے “” احد کی آواز منہا کو اپنےکان کے پاس 
سنائی دی تھی اسے لگا احد نے اسے کہا ۔۔۔۔ اس نے جلدی اپنے 
آس پاس سر گھما کردیکھا ۔۔۔۔ مگر کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا منہا !!! شرجیل نے اسے اپنے سے دور ہوتے دیکھ کر کہا ۔۔
کک ۔۔ کچھ نہیں منہانے ہکلاتے ہوئے ۔۔۔۔۔ کہا تم ٹھیک تو ہو 
باقی سب نے بھی اس کا یوں اچانک گھبرانا محسوس کیا تھا ۔۔۔
منہا کیا ہوا ارم نے پوچھا ۔۔۔۔۔ ہاں میں ٹھیک ہوں منہانے لہجے 
کو قدرے بہتر بناتے ہوئے کہا ۔۔۔ مگر اس کی آواز میں گھبراہٹ 
تھی ۔۔۔۔۔ تو تمہارے آواز کیوں لڑکھڑارہی ہے اور یہ او تمہیں تو 
پسینہ بھی آرہا ہے ۔۔۔۔۔۔ شرجیل نے اس کو دیکھتے 
ہوئے کہا ۔۔۔۔۔منہا کا پورا چہرا پسینے میں شرابو تھا ۔۔۔۔
شرجیل نے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے اور چہرے کو چھونا چاہا 
تھاابھی شرجیل نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا ۔۔۔۔ کے شرجیل کا 
اپنے چہرے کی جانب بڑھتا ہاتھ دیکھ کر وہ اچھل کے پیچھے ہوئے تھی 
اور خود جلدی سے اپنا بھیگا چہرا صاف کیاتھا شرجیل اور باقی سب 
نے اسُے حیرت سے دیکھا تھا ۔۔۔۔
م ۔۔ مم۔می۔۔ری ۔۔۔۔ طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی منہا کے 
منہا کے منہ نے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کے نکلے تھے میں گھر جارہی ہوں 
منہا نےباہر کے جانب قدم بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ منہا کیا ہوا 
ہے تمہیں اچانک کنزہ نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔ مگر وہ اسُ کی بات 
سنی انَ سنی کرتی تیز قدموں سے مین گیٹ کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔
یہ منہا کو اچانک کیا ہو گیا ۔۔۔۔ ابھی تو ٹھیک تھی ۔۔۔ آہمہ نے 
شرجیل کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں شرجیل نے 
کندھے اچکا کر کہا ۔۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں میں کل منہا کے گھر جا 
کر پوچھ لوں گی کنزہ نے کہا ۔۔۔۔۔اور ویسے بھی منہا کا موڈ پل 
پل میں بدل جاتا ہے تم اب آؤ کیک کٹ کرتے ہیں ارم ناک پر سے 
مکھی اڑانے کے سے انداز میں بولی ۔۔۔۔اور سب کو لے کر ٹیبل 
کے طرف آگئی جہاں باقی کیک کٹینگ کا ویٹ کررہے تھے ۔۔۔ ۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رو رو کر منہا کا برا حال تھا ۔۔۔۔اک عجیب سی وہشت اس پر 
طاری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔منہا کو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کے 
گالوں اور ہاتھوں پر شرجیل کے ہاتھوں کا لمس ہو ۔۔۔وہ کئی بار اپنا 
منہ اور ہاتھوں کو دھو چکی تھی ۔۔۔مگر اس کا یہ احساس مٹ ہی 
نہیں رہا تھا ۔۔۔۔ اس کو اپنا سانس بن ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔
ایسا پہلی بارمنہاکےساتھ تھا ۔۔۔۔ وہ کس مشکل سے گھر پہنچی تھی 
یہ بس وہ ہی جانتی تھی۔۔۔۔ پورے راستے احد کی آواز منہا کے 
کانوں میں گونجتی رہی تھی ۔۔۔۔ احد ۔۔۔ احد۔۔۔۔ کیوں میں 
تمہاری باتوں کو ذہن سے نہیں نکال پارہی ۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔ 
منہا نے اپنے دونوں ہاتھ کو کانوں پر زور سے رکھا تھا اور آنکھوں کو 
کسَ کے میچتے ہوئے خود کلامی کے سے انداز میں احد کو کہا ۔۔۔مگر 
منہا کو لگ رہاتھا۔۔۔ احد بار بار اسُ کو کہ رہا ہو ۔۔۔۔””عورت 
تب برباد ہوتی ہے جب غیر مردوں کے منہ سے اپنے لیے تعریف سنے لگے “
منہانے روز سے تکیے کو بیڈ پر سے اٹا کر فرش پر پھیکا۔۔منہا کو لگا 
اسُ کا دل بند ہوجائے گا ۔۔۔ وہ جلدی سے اٹھ کر بالکنی میں آئی اور 
زور زور سے سانس بھرنے لگی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔مگر کوئی فرق نہیں پڑا تو 
بھاگتے ہوئے کمرے سے نکلی تھی اور ثمرا بیگم سے پاس گئی تھی ۔۔
مگر کمرا خالی تھی وہ شاید گھر پر نہیں تھی اور رحمن صاحب میٹینگ کے لیے
 شہر سے باہر تھے۔۔۔۔ نیہا سے کبھی بھی اتنی نہیں بنی تھی کی وہ 
منہا کی کوئی فکر کرتی۔۔۔۔۔۔ وہ بےچین سی ہو کر واپس اپنے 
کمرے میں آگئی تھی ۔۔۔۔۔زمین پر بیٹھ کر وہ چیخ چیخ کر رونے لگی  
منہاکو اپنے اس پاس صرف اندھیرا دیکھ رہا تھا ۔۔۔اسے خوف سا 
آرہا تھا ۔۔ اسُے اپنی اب تک کی زندگی کسی فلم کی طرح چلتی ہوئی  
محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔ کیوں ہورہا ہے میرے ساتھ ایسا ۔۔۔۔
منہا نے اپنے بالوں کومٹھی میں کسُ کر جکرتے ہوئے خودکلامی کی ۔۔
 وہ اپنی اس کیفیت کو سمجھ نہیں پارہی تھی ۔۔۔۔آمنہ بھی اکثر 
اس سے ایسی ہی باتیں کرتی تھی۔۔۔۔ منہانے کبھی دھیان نہیں 
دیا تھا ۔۔۔۔مگر آج ۔۔۔۔ احد کی باتیں اس کے دماغ سے نکل 
نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ جب کسی پل چین نا آیا۔۔۔۔ توآنکھیں میچے 
سرکو گھٹنو پہ رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔ مسلسل رونے سے اسُ کی ہچکیاں بندھ 
گئی تھی ۔۔۔ اللہ ۔۔۔۔۔ کے اچانک ہچکیوں کے درمیان بےساختہ 
اس کے منہ سے نکلا۔۔۔۔۔ منہا نے چونک کر سر کو اوپر کیا اور 
حیرت سے اپنے لب پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔ اللہ ۔۔۔۔اور پھر زیرِلب 
ہلکا سا دہرایا ۔۔۔پھر ایسی طرح کئی بار وہ آنکھ بند کرئے اللہ کے نام 
کی تسبح کرنے لگی چند سیکنڈ برد ہی اسُ کو محسوس ہوا تھا جیسے سانس 
بہال ہوئی ہو ۔۔۔ دل جو کسی نے مٹھی میں جکڑ رکھا ہو اسُ جلڑ کی 
گرفت کمزر ہوئی ہو ۔۔۔۔ اس کو اپنے اندر اک سکون سا اترتا 
محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔ وہ جو تین گھنٹوں سے اس پر وحشت طاری 
تھی کچھ پل میں اسے کم ہوتی معلوم ہوئی تھی ۔۔۔وہ دل پر ہاتھ 
رکھے ونہی زمین پر ہی لیٹےاللہ کے نام کی تسبح کرتے سوگئی تھی ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ہائے منہا !!!! کیسی ہو ۔۔۔۔منہا لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی تھی برُی 
طرح کسی سوچ میں گھم تھی جب کنزہ اسُ کے پاس آتے ہوئے بولی  
منہا نے چونک کو کنزہ جو دیکھا۔۔ ہاں ۔۔۔ میں۔۔۔ ٹھیک ہوں 
تم سناؤ منہا نے بامشکل مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ وہ تم رات 
ایسے ہی جلدی چلی گئیں تھی ۔۔۔۔۔ہم سب پریشان ہوگئے تھے 
اور شرجیل بھی تمہارا پوچھ رہا تھا۔۔۔۔ تمہیں فون بھی کیا مگر تمہارا 
نمبر ہی آف ہے ۔۔۔۔کنزہ نے اک ہی سانس میں سب بولا ۔۔
ہاں بس اچانک سر میں درد ہوگیا تھا ۔۔۔۔ اس لئے منہا نی ٹالتے 
ہوئے کہا ۔۔۔۔اب کیسی طبیعت ہے ۔۔۔۔ 
ہممم !!! ٹھیک ہے باظاہر تو منہا نے مسکرا کر ہاں میں جواب دیا تھا 
مگر اس کے اندر اس وقت اک حشر برپا تھا۔۔۔ عجیب سی 
بےقراری تھی جو منہا کے رگ و پے میں تھی منہا جیسے کھول کر 
سانس لینا چاہ رہی ہو مگر آنا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
 اچھا چلو اک کام کرتے ہیں لنچ پر چلتے ہیں تم بھی فرش ہو جاؤ گی 
اور ارم کو بھی بلالیں گے کل تم وش بھی نہیں کر پائیں تھیں اس 
طرح لنچ بھی ہو جائے کا اور تم اس کا وش بھی کر دینا کنزہ نے 
پروگرام بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ او کے میں فرش ہو کر آتی ہوں شاید 
آوٹنگ سے دل بہل جائے منہا خود سے کہتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔

   0
0 Comments